کبھی کبھی دل ہلکا کرنے کے چکر میں بہت سارے بوجھ روح پر بھی آ گرتے ہیں، دکھ کہہ دینے سے کہیں اچھا ہے دکھ کو اندر ہی رکھ کر اپنی ذات فنا کر دی جائے۔
Related Posts
Azlan Thoughts – Part 52
بیٹی کا حق: غیرت یا منافقت؟ ہم بیٹی کو قتل…
Azlan Thoughts – Part 51
میں نے ہمیشہ کوشش کی کہ مجھ سے جڑے لوگ…