سچی بات نا کبھی کبھی دل میں ہی دبا لینی چاہئیے، سامنے والے کا بھلا سوچتے سوچتے ہم اُس کو خود سے ہی خفا کر لیتے ہیں، بدگمان کر لیتے ہیں جبکہ اپنے تو صرف پیار مانگتے ہیں نا اُن کو کسی کا احسان یا مدد نہیں چاہئیے ہوتی۔ ھم اُن پر احسان دھرتے دھرتے پیار کھو دیتے ہیں!
Related Posts
Azlan Thoughts – Part 52
بیٹی کا حق: غیرت یا منافقت؟ ہم بیٹی کو قتل…
Azlan Thoughts – Part 51
میں نے ہمیشہ کوشش کی کہ مجھ سے جڑے لوگ…