ہم میں سے بیشتر لوگ اِس خوش فہمی میں جی رہے ہوتے ہیں کہ ہم صرف عبادات سے بخش دیے جائیں گے۔ آپ کا لہجہ اور رویہ اگر کسی کی دل آزاری اور احساسِ کمتری کی وجہ بن رہا ہے تو ماتھے پر لاکھ محراب سجا لیں مگر رہے گا وہ آپ کے کالے دل کا سیاہ داغ ہی۔
Related Posts
Azlan Thoughts – Part 52
بیٹی کا حق: غیرت یا منافقت؟ ہم بیٹی کو قتل…
Azlan Thoughts – Part 51
میں نے ہمیشہ کوشش کی کہ مجھ سے جڑے لوگ…